چیئرمین پیمرا اور ساتھیوں کی جان کوخطرہ‘آرمی چیف تحقیقات کروائیں


اسلام آباد (نیوزلائن)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چئیر مین ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا ریاست کا ایک ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن رد الفساد کے تحت پیمرا کی کچھ ذمے داریاں ہیں۔ تمام ادارے آئین کے مطابق پیمرا کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمیں کونے سے لگا دیا گیا ہے اور پیمرا ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔اس ضمن میں وفاقی حکومت اور آرمی چیف سے مدد طلب کی ہے ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چئیر مین پیمرا ابصار عالم نے کہا کہ پیمرا جب بھی اپنا کام کرتا ہے، فوری طور پر عدالت سے رجوع کر کے اسٹے آرڈر لے لیا جاتا ہے یا قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ میں نے چیف جسٹس سےدرخواست کی ہے کہ کیسز کے فیصلے جلد کیے جائیں۔ پیمرانے 357ایکشن لیے تو 337 کورٹ میں چیلنج ہوئے۔چیف جسٹس صاحب کو خط لکھا جس میں استدعا کی ہے کہ کیسز جلدنمٹائے جائیں، نیشنل ایکشن پلان شوکاز نوٹسز پر بھی اسٹے آرڈر لےلیاجاتاہے۔ پیمرا نےکنٹرول آئین اور قانون کے تحت کرنا ہے۔ پیمرا کا عملی طور پر اختیار ہائیکورٹس کے پاس چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ سمیت مجھے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مجھ پر نازیبا الزامات عائد کیے گئے ۔میں اپنی تنخواہ لیتا ہوں اور گذشتہ برس میں نے 80 لاکھ سے زائد ٹیکس بھی جع کروایا۔ کچھ لوگوں نے مجھ پر توہین مذہب کے الزامات بھی عائد کیے۔ میری ماں آج بھی حیات ہیں ۔میرے دو بھائی نظام مصطفیٰ میں شہادت پا چکے ہیں۔ میری والدہ آج بھی اپنے بیٹوں کو یاد کر کے روتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میری اپیل ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف دھمکیوں کا نوٹس لیں۔میں توقع کرتا ہوں کہ پاکستان کا ایک ادارہ جس کو ہم بنانے اور آگے لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ پیمرا کا کام میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہے لیکن اگر پیمرا کو ایک ادارہ بنانا ہے تو ہمیں ہمارے اختیارات دئیے جائیں اور پیمرا کے ملازمین کو تحفظ بھی دیا جائے۔ بصورت دیگر پیمرا اپناکام نہیں کر سکے گا۔ میں وہ ایکٹر نہیں ہوں جو ٹی وی چینلز پر بیٹھ ر فتوے دیتے ہیں۔کچھ اینکرز میڈیا پر نفرت انگیز مواد نشر کر رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ابصار عالم نے پیمرا حکام کو موصول ہونے والی ایک دھمکی آمیز فون کال بھی سنوائی۔ اور کہا کہ میں وزیر اعظم ہاؤس اور آرمی چیف کے دفتر کے نوٹس میں یہ معاملہ لا چکا ہوں۔ ہم اس معاملے پر سپریم کورٹ جائیں گے اور اس معاملے کو آگے لے کر جائیں گے۔ جن اداروں کا کام عوام کی تحفظ کرنا ہے ہم ان سے بھی رجوع کریں گے۔یہ صرف ایک کال ہے، ہمیں آوازیں بدل بدل کر ایسی کئی دھمکی آمیز کالز کی گئی ہیں۔ دھمکی آمیز کالز پر تھانے جاتے تو ملازمین کی جانوں کو مزید خطرہ لاحق ہوتا۔ پیمرا ملازمین اور ان کے خاندانوں کی جان کو خطرہ ہے۔ میں بار ہا یہ اپیل کررہا ہوں کہ چیف جسٹس، وزیر اعظم ، آرمی چیف اور وفاقی وزیر داخلہ اس معاملے کی تحقیقات کروائیں اور اس کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لائیں کہ انہوں نے پیمرا جیسے ریاستی ادارے کو دھمکیاں دینے کی جرأت کیسے کی؟ وزیر اعظم اور میرا دل قریب ہے، کبھی فاصلے نہیں آسکتے ۔میں ان سے ملاقات کا خواہشمند تھا لیکن وزیراعظم کی مصروفیت کی وجہ سے وقت نہیں ملا۔ پیمرا ریاست کا ادارہ ہے۔ اگر ہمارے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو پیمرا کے لیے کام کرنا ناممکن ہو جائے گا۔کیونکہ میں اپنے ٹیم ممبرز اور ان کے خاندان والوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیمرا جہاں پوسٹ آفس کا کام کرتا ہے وہاں بھی مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ میں مزید چینلز کے لائسنس اوپن کر رہے ہیں جس سے روزگار کے مزید مواقع فراہم ہوں گے۔

Related posts