ڈاکٹرز مافیا ہر اخلاقیات سے عاری ہو گیا: مریضوں کی زندگی سے کھیلنے لگے

لاہور (نیوزلائن) احتجاج کے نام پرڈاکٹرز نے تمام پیشہ وارانہ و سماجی اخلاقیات پس پشت ڈال دیں اور مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں۔ ہسپتالوں میں او پی ڈی کے علاوہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی کو بھی نظر انداز کر کے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کے احتجاج کے دوران ٹریفک جام سے پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ فیصل آباد‘ لاہور‘ ملتان اور دیگر شہروں میں ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کے ڈاکٹرز سے جھگڑے‘ حکومت سے ڈاکٹرز کے خلاف سخت ایکشن لینے اور لازمی سروسز ایکٹ نافذ کرنے کا مطالبہ‘ نیوز لائن کے مطابق پنجاب بھر میں ینگ ڈاکٹرز نامی تنظیم کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پانچ روز سے جاری ہے۔ینگ ڈاکٹرز نے او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ کیا جبکہ وارڈز اور ایمرجنسی میں ڈیوٹی کرنے والے ڈاکٹرز کی بڑی تعداد بھی احتجاج اور دھرنے کے دوران ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے۔ جس کے باعث ہزاروں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایمرجنسی میں مریض جاں بلب تھے اور ڈاکٹرز ہسپتالوں کے باہر نعرے لگانے اور شہریوں سے جھگڑنے میں مصروف رہے۔فیصل آباد میں الائیڈ ہسپتال‘ ایف آئی سی‘سول ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹرز کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہے جبکہ لاہور میں جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال، چلڈرن ہسپتال، گنگارام، میو، ڈی مونٹ، لیڈی ایچی سن، لیڈی ویلنگٹن میں مریضوں کی زندگیاں ڈاکٹرز نے داؤپر لگائے رکھیں۔احتجاجی ڈاکٹرز نے او پی ڈی میں ڈیوٹی سنبھالنے والے سینئر ڈاکٹرز پر بھی دھاوے بولے اور انہیں بھی کام سے روک دیا۔ بعض مقامات پر ڈاکٹرز کی شہریوں کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کا رویہ نامناسب ہے احتجاج کے حق کے نام پر وہ نظام کو مفلوج کرنے پر تلے ہوئے ہیں ایسا کرنا مناسب نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز مسیحائی کے مقدس پیشے سے وابستہ ہیں ان کیلئے صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہونا چاہئے۔احتجاجی ڈاکٹرز کے مطالبات بھی ان کی حدود سے آگے کے ہیں جسے منظور کرنا حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے۔ شہریوں نے احتجاج کے نام پر تمام حدود پھلانگنے اور نظام کو مفلوج کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Related posts