اپنی پارٹی سے غداری کرنیوالے امیدواروں کی اکثریت ناکام


فیصل آباد(احمد یٰسین)نظریات پس پشت ڈال کر صرف الیکشن جیتنے کی خاطر اپنی پارٹی سے غداری کرنے والوں کو فیصل آباد کی عوام نے بری طرح مسترد کردیا ہے۔ ہوا کا رخ دکھ کر چلنے والی سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد الیکشن میں بری طرح ناکام رہے۔نیوزلائن کے مطابق سالہا سال تک نظریات کا پرچار کرنے والوں نے الیکشن قریب آتے ہی اپنی جماعتوں سے وفاداریاں تبدیل کر کے ہوا کے رخ پر چلنے کا ثبوت دیا تو عوام نے بھی انہی ناکامی سے دوچار کردیا۔جنرل پرویز مشرف کو دور میں مسلم لیگ ق میں شامل ہو کر اہم عہدے انجوائے کرنیوالی ساہی فیملی نے الیکشن 2013میں ن لیگ کی گاری میں سواری کرلی تاہم عوام نے ان کی اس تبدیلی کے باوجود ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ الیکشن 2018میں ہوا کا رخ بھانپتے ہوئے ساہی فیملی کپتان کے کھلاڑی بن گئی اور ایک قومی ‘ دو صوبائی حلقوں سے میدان میں اتری مگر عوام نے ان کی اس وفاداری تبدیلی پر ناپسندیدگی کی مہر لگا۔ ساہی فیملی کسی ایک نشست پر بھی کامیاب نہ ہوسکی۔ کئی دہائیوں تک پیپلزپارٹی کا جھنڈا پکڑ کر عوام میں بھٹو کے نظریات کا پرچار کرنیوالے سابق صوبائی صدر پی پی پی رانا آفتاب احمد خاں بھی الیکشن 2018میں ہوا کا رخ بھانپ کر اور کپتان کی قیادت میں کھیلنے کیلئے تیارہوگئے مگر حلقے میں ایک مضبوط دھڑا رکھنے کے باوجود وہ کامیابی نہ حاصل کرسکا اور واضح فرق سے ناکامی سے دوچار ہوگئے۔تین انتخابات میں تین مرتبہ پارٹی بدلنے والے سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار احمد جٹ نے الیکشن 2018سے چند ہفتے قبل الیکشن 2013میں جوائن کی گئی مسلم لیگ ن کو چھوڑا تو عوام نے ان کے فیصلے کو قبولیت نہ بخشی اور ناکامی سے دوچار کردیا۔این اے 104سے کپتان کے کھلاڑی بن کر میدان میں اترنے والے سابق ایم این اے سردار دلدار احمد چیمہ نے چند ماہ قبل ہی اپنی پرانی پارٹی کو خیرباد کہ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی مگر عوام کو ان کی یہ ادا نہ ایک آنکھ نہ بھائی۔ اور ووٹ کی طاقت سے انہیں اسمبلی سے دور کردیا ۔ صرف وہ خود ہی نہیں صوبائی نشست پر ان کے صاحبزادے سردار دلنواز چیمہ بھی کامیابی سے کوسوں دور دکھائی دئیے۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے عارف محمود گل نے الیکشن سے چند ہفتے قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرکے کھلاڑی بننے کی کوشش کی مگر کپتان نے انہیں اپنی پلیئنگ الیون میں شامل نہ کیا اور ٹکٹ دینے سے انکار کردیا۔ جس پر وہ صوبائی سیٹ پر اور ان کے بھائی قومی سیٹ پر آزاد حیثیت سے خم ٹھونک کر میدان میں کود پڑے مگر دو مہینے میں دو پارٹیاں بلدنے والے گل برادران عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر چیئرمین ضلع کونسل بننے والے بلدیاتی الیکشن 2002کے ق لیگ کے ڈسٹرکٹ ناظم چوہدری زاہد نذیر نے باوجوہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ لینے سے گریز کیا اوراپنے صاحبزادے کو این اے 105سے آزاد حیثیت سے میدان میں اتار دیا۔ مگر بھرپور مقابلے کے باوجود کامیابی ان کے حصے میں نہ آئی۔ الیکشن کی دوڑ قریب آتی دیکھ کر مسلم لیگ ق کے دور میں اقتدار انجوائے کرنیوالے رانا زاہد توصیف اور ان کے بھائی رانا آصف توصیف کپتان کی ہمراہی میں آگئے۔ کپتان نے آصف توصیف کو فائنل الیون میں شامل کرکے این اے 105سے میدان میں بھی اتارا مگر کروڑوں روپے کے بنک قرضوں کے معاملے پر رضا نصراللہ نے ان کیخلاف عدالت سے رجوع کرکے انہیں نااہل کروا دیا ۔وہ پھر بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں رہے اور شکست کھاگئے۔کاغذات جمع کروانے کے بعد عین آخری لمحات میں ٹکٹ جمع کروانے کے دن پیپلزپارٹی کو خیرباد کہہ کر آزاد امیدوار بننے والے خان شبیر احمدخان کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ پہلے تین امیدواروں میں بھی جگہ نہ بنا سکے۔ الیکشن سے چند دن پہلے ہی کپتان کا کھلاڑی بننے والے شاہد خلیل نور کو بھی عوام نے بری طرح مسترد کردیا ۔ سابق صوبائی وزیر چوہدری ظہیرالدین کا دست راست سمجھے جانیوالے اکبر گجر ٹھیکیدار بھی الیکشن سے چند روز قبل مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے اور پی پی 99سے امیدوار بن گئے مگر کامیابی ان سے کوسوں دور رہی۔ دھرنے میں اہم ’’خدمات‘‘ سرانجام دینے کے دعویدار پی ٹی آئی رہنما خان بہادر ڈوگر نے ٹکٹوں کی تقسیم کے کپتان کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے پی ٹی آئی چھوڑی اور آزاد میدان میں اتر آئے مگر کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما سیف اللہ گل نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر پارٹی سے اختلاف کیا اور پارٹی چھوڑ کر آزاد میدان میں کود پڑے مگر ناکامی سے دوچار ہوئے۔ مسلم لیگ ق کے رہنما خالد پرویز گل نے بھی الیکشن کے لمحات میں ہی مسلم لیگ ن میں انٹری کی اور پی پی 106سے ٹکٹ لے اڑے مگر کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔

Related posts