این اے 87حافظ آباد: روائتی مخالفین میں بڑے مقابلے کی توقع


حافظ آباد(احمد یٰسین)ووٹرز کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا انتخابی حلقہ این اے 87حافظ آباد ہے۔ حافظ آباد میں دو بڑے گروپوں افضل تارڑ گروپ اور مہدی بھٹی گروپ کے درمیان انتخابی معرکے ہوتے آئے ہیں۔ اس مرتبہ بھی میدان انہی کے درمیان لگے گا تاہم مہدی بھٹی گروپ کا اس مرتبہ ایک کی بجائے دو امیدوار ہیں اور باہمی ایک دوسرے کی شدید مخالفت کرہے ہیں۔این اے 87حافظ آباد پورے ضلع حافظ آباد پر مشتمل ہے جبکہ ضلع میں پنجاب اسمبلی کے تین حلقے پی پی 69تا پی پی 71ہیں۔ ماضی میں یہ ضلع دو قومی اور تین صوبائی حلقوں پر مشتمل ہوتا تھا مگر نئی حلقہ بندیوں میں حافظ آباد کا قومی اسمبلی کا ایک حلقہ کم ہو گیا جس کے مقامی سیاست پر دوررس اثرات مرتبے ہوئے اور آئندہ کی سیاست پر بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑے گا۔ این اے 87حافظ آباد میں روائتی حریف افضل تارڑ اور مہدی بھٹی ہی ایک مرتبہ پھر مدمقابل ہیں ۔ افضل تارڑ کی بیٹی سائری افضل تارڑ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جبکہ مہدی بھٹی کا بیٹا شوکت علی بھٹی تحریک انصاف کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے بھی اس پسماندہ علاقے میں خواتین امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ پی پی پی کی طرف سے بیگم اللہ رکھی اور ایم ایم اے کی طرف سے فہمیدہ کوثر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور روائتی تارڑ و مہدی گروپوں کی سیاست کو چیلنج کررہی ہیں۔مہدی بھٹی گروپ کو ایک بڑا جھٹکا مہدی بھٹی کے بھائی اور سابق ایم این اے لیاقت عباس بھٹی کے میدان میں کودنے سے لگا ہے۔ لیاقت عباس بھٹی پی ٹی آئی کا امیدوار بننا چاہتے تھے جبکہ فیملی سیاست میں بھی وہ خود کو اپنے بھتیجے سے بہتر امیدوار قرار دیتے تھے مگر شوکت بھٹی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے پر انہوں نے پی ٹی آئی اور فیملی سے بغاوت کرتے ہوئے انتخابی عمل میں رہنے کا علان کیا ۔ لیاقت عباس بھٹی تھریک لبیک پاکستان کے ٹکٹ پرمیدان میں ہیں ۔ انہوں نے حافظ آباد کے چاروں حلقوں میں اپنا پینل دیا ہے اور ہر حلقے میں مضبوط امیدوار ان کے ساتھ ہیں۔بظاہر قومی اسمبلی کی نشست پر مہدی بھٹی گروپ کو باہمی اختلافات کی وجہ سے نقصان ہوا ہے مگر شوکت بھٹی کوپی ٹی آئی کے جنون کا سہارا بھی حاصل ہے اور اس کا انہیں فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ سائرہ افضل تارڑ سابق وزیر مملکت بھی رہی ہیں جبکہ افضل تارڑ گروہ کی علاقے میں اپنی حیثیت بھی ہے۔ وہ الیکشن جیتنے کیلئے محنت بھی بھرپور کررہی ہیں۔ لیاقت عباس بھٹی کا اپنا اچھا خاصا حلقہ اثر ہے جسے وہ تحریک لبیک پاکستان کے مذہبی ووٹ کیساتھ استعمال میں لا کر سیٹ جیتنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پی پی پی کی بیگم اللہ رکھی روائتی سیاستدان نہیں ہیں مگر سوشل سرگرمیوں میں ان کا نام سامنے آتا رہا ہے ۔ وہ علاقے کی روائتی سیاست تو نہیں کر رہیں مگر سوشل سرگرمیوں اور پی پی پی کے انقلابی منشور کی سیاست کیلئے سرگرم ہیں اور علاقے کی روائتی سیاست اور گروپوں کو چیلنج کرتے ہوئے عوام سے اچھے کی امید رکھتی ہیں۔ ایم ایم اے کی امیدوار فہمیدہ کوثر بھی علاقے کی روائتی سیاست کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس حلقے میں اللہ اکبر تحریک کے نشان کرسی کیساتھ ملک محمد اسلم اور آل پاکستان مسلم لیگ کے نشان عقاب کیساتھ میاں فضل احمد قادری کے علاوہ آزاد امیدوار افرسیاب موہل مٹکے‘بابر مقبول قاضی جیپ‘ چوہدری محمد اسد اللہ بکری ‘ قمر عباس چاقو‘ مبشر عباس بھیڑ‘ محمد رفیق بیل کے نشان کیساتھ انتخابی عمل کا حصہ ہیں۔ حلقے کی سیاست کو دیکھا جائے تو روائتی حریفوں سائرہ افضل تارڑ ‘ شوکت عباس بھٹی اور لیاقت عباس بھٹی کے مابین میدان لگنے کی توقع ہے ۔ حافظ آباد کے گیارہ لاکھ 56ہزار 967نفوس کی قومی اسمبلی میں نمائندگی کا حق کسے ملتا ہے اس کا فیصلہ تو 25جولائی کو حلقے کے چھے لاکھ 84ہزار 447ووٹ ہی کریں گے۔

Related posts