بلدیاتی نمائندوں کو انتخابی عمل سے دور رپنے کا حکم نامہ جاری

فیصل آباد (نیوزلائن)بلدیاتی نمائندوں کی ہٹ دھرمی کے باعث الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی روشنی میں پنجاب حکومت کو بلدیاتی نمائندوں کیلئے انتخابی عمل سے دور رہنے کا حکم نامہ جاری کرنا پڑا۔ نیوزلائن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017میں واضح الفاظ میں تحریر کیا گیا ہے کہ کونسلر سے لے کر ضلع کونسل کے چیئرمین اور میئرز تک کوئی بلدیاتی نمائندہ عام انتخابات میں ووٹر کے علاوہ کسی حیثیت میں حصہ نہیں لے سکتا۔بلدیاتی نمائندے استعفیٰ دئیے بغیر قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں امیدوار نہیں بن سکتے۔ امیدواروں کی انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔ کسی امیدوار کیخلاف انتخابی مہم کا حصہ نہیں بن سکتے۔ کسی امیدوار کے سپورٹر نہیں بن سکتے۔ جلسوں‘ جلوسوں‘ کارنر میٹنگز میں شامل نہیں ہو سکتے مگر اس کے باوجود پنجاب بھرمیں بلدیاتی نمائندے الیکشن عمل کا حصہ بن رہے تھے۔ یوسی چیئرمین کھلے عام قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی حمائت اور مخالفت میں مہم چلا رہے تھے۔ میئرز اور چیئرمین ضلع کونسلز بھی انتخابی عمل میں اپنے عزیزوں کی کامیابی کیلئے کام کررہے تھے۔ اس صورتحال کے تناظر میں نگران پنجاب حکومت نے بلدیاتی نمائندوں کے نام حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ وہ کسی انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے سکتا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی حمائت کرنے‘ اس کی انتخابی مہم چلانے‘ اس کیلئے جلسوں ‘ جلوس‘ کارنر میٹنگز کا انعقاد کرنے یا اس کی حمائت یا مخالفت میں تقاریرکرنے پر بلدیاتی نمائندوں کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومتی مراسلے میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کے علاوہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کی دفعہ 4کے تحت بھی بلدیاتی نمائندوں کے قومی انتخابات کی الیکشن مہم میں کسی طور پر بھی شمولیت ومعاونت کرنا منع ہے ۔ پنجاب حکومت نے مےئرمیونسپل کارپوریشن،ڈپٹی مےئرزمیونسپل کارپوریشن،چےئرمین ضلع کونسل،وائس چےئرمین ضلع کونسل،چےئرمین میونسپل کمیٹیز،چےئرمین/وائس چےئرمین یونین کونسلز اور کونسلرز کو واضح الفاظ میں ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی وہ حیثیت میں انتخابی مہم کا حصہ بننے سے باز رہیں بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related posts