جھنگ:روائتی حریف پینترے بدل کر دوبارہ مقابل آچکے


فیصل آباد(احمد یٰسین)الیکشن 2018کے دوران جھنگ میں انتہائی دلچسپ صورتحال سامنے آرہی ہے۔ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن تو سرے سے الیکشن میں ہی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے علاوہ پیپلزپارٹی کسی قدر انتخابی معرکے میں نظر آرہی ہے جبکہ اہلسنت و الجماعت کے قائدین بھی انتخابی معرکے کو دلچسپ بنائے ہوئے ہیں۔جھنگ کے قومی اسمبلی کے تین میں سے دو حلقوں میں پیپلزپارٹی کی مقابلے میں ہے جبکہ پی ٹی آئی بھی دو حلقوں تک ہی محدود ہے ۔ سابق وفاقی وزیر وقاص اکرم آزاد میدان میں ہیں۔جھنگ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 114میں پیپلزپارٹی کے فیصل صالح حیات اور پی ٹی آئی کے صاحبزادہ محبوب سلطان کے مابین گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ سابق ایم پی اے افتخار بلوچ کی صاحبزادی علیشاہ بھی ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں تاہم قومی سے زیادہ صوبائی سیٹ پر وہ زیادہ مضبوط ہیں۔ اس حلقے میں اصل مقابلہ دو گدی نشینوں فیصل صالح حیات اور صاحبزادہ محبوب سلطان میں ہوگا۔ تحریک لبیک پاکستان کے اسرار الحق چیمہ متحدہ مجلس عمل کے حاجی داؤد خان کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ وہ صاحبزادہ محبوب سلطان کے ووٹ توڑیں گے۔ سلطان باہو دربار کی گدی نشینی کے جھگڑوں سے بھی صاحبزادہ محبوب سلطان کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔عوامی سطح پر یہ بھی تاثر ہے کہ سابق ایم این اے سیدہ عابدہ حسین بھی یہاں فیصل صالح حیات کی درپردہ مدد کررہی ہیں۔نئی حلقہ بندیاں بھی فیصل صالح حیات کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ پی پی پی کے فیصل صالح حیات اس حلقے میں مضبوط پوزیشن میں ہیں اور کوئی بڑا اپ سیٹ نہ ہوا تو یہ سیٹ پیپلزپارٹی کو مل جائے گی۔ 


این اے 115شہری حلقہ ہے اور یہاں دو روائتی حریف سمجھے جانیوالے امیدوارمولانا احمد لدھیانوی اور شیخ اکرم کسی سیاسی جماعت کی حمائت کے بغیر میدان میں ہیں۔شیخ اکرم خود تو امیدوار نہیں ہیں تاہم ان کے صاحبزادے شیخ وقاص اکرم امیدوار ہیں۔ تحریک انصاف نے سابق ایم این اے غلام بی بی بھروانہ کو میدان میں اتارا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے کوئی قابل ذکر امیدوار نہ ملنے پر پی ٹی آئی کے ایک کارکن سلیم طاہر کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ دیدئیے۔ سابق سینیٹر صغریٰ امام پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ ملنے کے بعد بالٹی کے نشان کیساتھ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہی ہیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے عقاب کیساتھ زوار حسین متحدہ مجلس عمل کی کتاب تھامے لبینہ صدیقہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ محمد احمد لدھیانوی کا نشانہ تانگہ جبکہ شیخ وقاص اکرم کا مٹکا ہے۔ سیاسی حلقے توقع کررہے ہیں کہ اصل مقابلہ تانگے اور مٹکے میں ہی ہوگا۔ شیخ وقاص اکرم مضبوط سمجھے جارہے ہیں جبکہ کمزور محمد احمد لدھیانوی بھی نہیں ہیں۔ غلام بی بی بھروانہ کو پی ٹی آئی کے جنونیوں کی حمائت بھی حاصل ہے تاہم انہیں کامیابی کیلئے کچھ زیادہ ہی محنت کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ نئی حلقہ بندیاں بھی انہیں سپورٹ نہیں کررہیں۔

 


جھنگ کے ہی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 116میں دو امیر‘ ایک معاویہ‘ اور ایک بھروانہ مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ امیر سلطان کوپی ٹی آئی ٹکٹ کا ٹکٹ حاصل ہے جبکہ امیر عباس سیال بالٹی کے نشان کیساتھ آزاد میدان میں ہیں۔ مولانا آصف معاویہ مرغی کے نشان کیساتھ آزاد امیدوار ہیں اور بھرپور مقابلہ کررہے ہیں۔ صائمہ اختر بھروانہ بھی آزاد ہی الیکشن لڑ رہی ہیں اور انہوں نے مٹکے کا نشان لیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے محمد رمضان اور پی پی پی کے محمد ناصر بھی میدان میں ہیں۔ پاکستان عوامی راج پارٹی کا جھاڑو پکڑے نذر عباس بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ امیر سلطان اور امیر عباس سیال میں سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔ تاہم صائمہ اختر بھروانہ اور مولانا آصف معاویہ بھی اپ سیٹ کرسکتے ہیں۔ جھنگ میں کامیابی کس کے قدم چومتی ہے اس کا فیصلہ تو 25جولائی کو جھنگ کے آٹھ لاکھ چار ہزار 536مرد اور چھ لاکھ 21ہزار 265خواتین ووٹرز نے کرنا ہے تاہم سیاسی حلقے فیصل صالح حیات اور شیخ وقاص اکرم کی پوزیشن مضبوط قرار دے رہے ہیں۔

Related posts