خیبر پختونخواہ کے 2قومی حلقوں کا الیکشن دوبارہ کروانے کا فیصلہ


اسلام آباد(نیوزلائن) خواتین کے کم ووٹوں کی وجہ سے قومی اسمبلی کے 2 حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہوں گے، این اے 10 شانگلہ اور این اے 48 شمالی وزیرستان میں خواتین کے 10 فیصد ووٹوں کی شرط پوری نہیں ہوسکی تھی۔ نیوزلائن کے مطابق خواتین کے ووٹ کم کاسٹ ہونے پر الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ قومی اسمبلی کے 2 حلقوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ الیکشن ایکٹ کے تحت کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں خواتین ووٹرز کا تناسب 10 فیصد لازمی ہے اور الیکشن کمیشن نے انتخابات سے قبل ہی یہ بات واضح کردی تھی لیکن خیبرپختونخواہ کے حلقہ این اے 10 اور این اے 48 میں اس قانون پر عملدرآمد نہ ہوسکا ۔ انتخابات 2018 کے نتائج کے مطابق این اے 10 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار عباداللہ خان 34665 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار سیدالرحمان نے 32665 ووٹ حاصل کیے۔ اس حلقہ میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 62 ہزار 49 ہے۔ یہاں صرف 12 ہزار 6 سو 63 خواتین نے حق رائے دہی استعمال کیا، جو 7.81 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے 48 میں آزاد امیدوار محسن خان نے کامیابی حاصل کی، حلقے میں خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 77 ہزار 5 سو 37 تھی۔ اس میں سے صرف 6 ہزار 3 سو 64 نے ووٹ کاسٹ کیے، جو کل خواتین ووٹ کا 8.2 فیصد بنتا ہے۔ دونوں حلقوں میں خواتین کے 10 فیصد ووٹوں کی شرط پوری نہیں ہو سکی۔ اس بناء پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی اس شق پر عمل کراوایا جائے اور ان حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروایا جائے ۔ ان دونوں حلقوں کا نتیجہ روکا جارہا ہے جبکہ الیکشن کالعدم قرار دیا جارہا ہے۔ الیکشن کالعدم قرار دئیے جانے پر ان حلقوں میں اب دوبارہ پولنگ ہوگی۔

Related posts