فیصل آباد شہر میں واحد خاتون امیدوار: مذہبی جماعت کی نمائندہ


فیصل آباد(احمد یٰسین)خود کو لبرل اور تمام طبقات کی نمائندہ جماعت کہنے والی تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے فیصل آباد سے کسی خاتون کو اپنی نمائندگی کے قابل نہ سمجھا۔ خواتین کیلئے بلند بانگ دعوے کرنیوالی تحریک انصاف بھی صرف زبانی جمع خرچ تک محدود رہی۔پی ٹی آئی ‘ ن لیگ ‘ پیپلزپارٹی نے کسی خاتون کو قومی یا صوبائی اسمبلی کے الیکشن کیلئے میدان میں نہیں اتارا۔نیوزلائن کے مطابق قومی اسمبلی کے چار اور پنجاب اسمبلی کے آٹھ حلقوں پر مشتمل فیصل آباد شہر سے الیکشن لڑنے والی واحد خاتون امیدوار کسی لبر ل جماعت کی طرف سے خواتین کی نمائندگی نہیں کررہیں بلکہ ایک مذہبی جماعت نے انہیں اپنی طرف سے خواتین کی نمائندگی کیلئے چنا ہے۔ فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 107سے سابق وزیرمملکت ٹیکسٹائل حاجی اکرم انصاری کے مقابلے میں ایکشن لڑنے والی رابعہ مختار تحریک اللہ اکبر(ملی مسلم لیگ)کے نشان کرسی پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ غلام محمد آباد کی رہائشی رابعہ مختار دختر شیخ مختار احمدنے ایک ہاؤس وائف ہیں اور ان کا ایک پائی کا سرمایہ یا جائیداد نہیں ہے۔ ان کا کوئی بنک اکاؤنٹ ہے نہ ان کے پاس نقد رقم ہے۔ وہ کسی کاروبار میں حصہ دار بھی نہیں ہیں جبکہ ان کے شوہر نعیم خالد غنی ٹریڈرز کے نام سے کاروبار ہے۔ فیصل آباد کو مذہبی حوالے سے انتہائی لبرل شہر گردانا جاتا ہے مگر کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کو انتخابی میدان میں نہ اتارنا اس کے لبرل تاثر کیلئے سوالیہ نشان ہے۔ فیصل آباد شہر سے دو خواتین صوبائی اسمبلی کی بھی امیدوار ہیں مگر دونوں ہی ایکشن میں حصہ نہیں لے رہی اور محض ان کے کاغذات نامزدگی ہی جمع ہیں۔فیصل آباد شہر سے ایک خاتون امیدوار سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں کی اہلیہ ہیں ۔ جن کے پی پی 113سے کاغذات نامزدگی رانا ثناء اللہ نے خود اپنی کورنگ امیدوار کے طور پر جمع کروائے تھے۔ نبیلہ ثناء کو الیکشن کمیشن نے کھانے والے کانٹے(فورک) کا انتخابی نشان الاٹ کیا ہے تاہم عملی طور پر ایکشن سے آؤٹ ہیں۔دوسری خاتون امیدوار میمونہ حسین ہیں۔ انہوں نے پی پی 112سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ کی امیدوار تھیں۔ پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ سے صاف انکار کردیا۔ جس کے بعد انہوں نے الیکشن سے عملی طور پر تو کنارہ کشی کرلی تاہم بندوق کا انتخابی نشان لیا اور اپنے انتخابی نشان ’’بندوق‘‘ کا رخ پی ٹی آئی امیدوار عدنان رحمانی کی طرف کررکھا ہے۔ کھلم کھلا پی ٹی آئی امیدوار کی حمائت اور مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں طاہر جمیل کی حمائت میں سرگرم ہیں۔ فیصل آباد شہر سے پیپلزپارٹی کی خاتون رہنما نورالنساء ملک بھی پارٹی ٹکٹ کیلئے کوشاں تھیں۔ وہ پی پی 115سے الیکشن لڑنا چاہتی تھیں مگر پارٹی نے ٹکٹ نجف ضاء کو دیدیا تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئیں۔

Related posts