مخصوص نشستوں کی جنگ: پی ٹی آئی لیڈیز ونگ میں بھی بغاوت


فیصل آباد(ندیم شہزاد)ٹکٹوں کے معاملے پر تحریک انصاف فیصل آباد میں بغاوت کے شعلوں ابھی سرد بھی نہ ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی لیڈیز ونگ میں بھی مخصوص نشستوں پر نامزدگیوں کے معاملے پر جنگ چھڑ گئی ہے اور نظر انداز کی گئی خواتین رہنماؤں نے بغاوت کا علم بلند کرلیا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلی کیلئے خواتین امیدواروں کی ترجیحی نشستوں کی لسٹ نے پی ٹی آئی لیڈیز ونگ میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ فیصل آباد میں پی ٹی آئی لیڈیز ونگ کی عہدیداران پارٹی سے شدید ناراض اور نظرانداز کئے جانے پر پی ٹی آئی خواتین ونگ کی قیادت کے علاوہ عمران خان ‘ جہانگیر ترین ‘ چوہدری سرور اور علیم خان کیخلاف بھی شدید ناراضگی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی لیڈیز ونگ کی سرگرم کارکنوں اور عہدیداران نے اس معاملے پر ناراض ہو کر پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر ہی دلبرداشتہ ہو کر پی ٹی آئی کی ایک انتہائی سرگرم کارکن میمونہ حسین نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق خواتین کی ترجیحی لسٹ کا معاملہ بھی پی ٹی آئی کے اندر ترین قریشی جنگ کا ہی حصہ ہے۔ اس میں علیم خان کی انٹری بھی جہانگیر ترین کے ایک ساتھی کے طور پر ہوئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کی خواتین کی ترجیحی لسٹ میں جہانگیر ترین اور علیم خان نے اپنی چہیتی خواتین کے نام ڈلوا لئے ہیں جبکہ پارٹی کیلئے کام کرنیوالی خواتین محروم رہ گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے حلقوں کے مطابق ڈاکٹر بشریٰ قیصر‘ منور سلطانہ ‘سابق ایم پی اے نبیلہ حاکم علی ‘حمیرا عالم‘ شبانہ خرم‘ساجدہ آصف ‘ملیحہ نعیم ہاشمی‘میمونہ حسین‘حنامخدوم اور متعدد دیگر خواتین رہنما اس معاملے پر پارٹی سے شدید ناراض ہیں۔ انہوں نے عملی طور پر پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے جس کا خمیازہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑے گا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اس ایشو کو ہنگامی بنیادوں پر حل نہ کیا تو الیکشن میں پی ٹی آئی کیلئے خواتین کو موبلائز کرنے میں شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں ایسے میں جبکہ ٹکٹوں کے معاملے پر اجمل چیمہ ‘ فواد چیمہ ‘ سلیم جہانگیر چٹھہ ‘ محمد علی سرفراز‘ نجم الحسن طوطا پہلوان‘ سلمان عارف‘ میاں اوضی‘ ظفر اقبال سندھو‘ لکی شاہ ‘ جہانگیر امتیاز گل ‘ شہباز کسانہ ‘ ڈاکٹر یٰسین اور متعدد دیگر اہم رہنما پارٹی سے ناراض ہیں۔ خواتین رہنماؤں کی ناراضگی اور پارٹی سرگرمیوں کا بائیکاٹ پی ٹی آئی کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

Related posts