وقت گزرنے کو باوجود فیصل آباد میں امیدواروں کی انتخابی مہم جاری


فیصل آباد(احمدیٰسین)سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں سمیت درجنوں ن لیگی اور پی ٹی آئی امیدواروں نے الیکشن کمیشن کی پابندی ہوا میں اڑا دی۔ انتخابی مہم کو وقت گزرنے کے باوجودمیڈیاپر انتخابی مہم جاری رکھی ۔ انتخابی مہم کا وقت گزرنے کے باوجود الیکشن اشتہارات شائع کرنیوالے اخبار کیخلاف بھی الیکشن کمیشن اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی کارروائی کرنا گوارہ نہ کیا۔الیکشن کمیشن کے احکامات اور میڈیا قواعد کے قواعد و ضوابط روندنے والے اخبار مالکان‘ اس کے ایڈیٹر اور انتخابی مہم جاری رکھنے والے امیدواروں کیخلاف فوری اور سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا۔ نیوزلائن کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25جولائی کو ہونیوالے انتخابات کیلئے 22جولائی کو انتخابی مہم ختم کرنے کا حکم دیا تھا مگر بعد ازاں اس میں ایک دن کا اضافہ کردیا گیا اور سختی کیساتھ ہدائت کی کہ 23جولائی کو رات بارہ بجے کے بعد کوئی امیدوار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر اشتہارات نہیں چلائے گا۔الیکٹرانک میڈیا کیلئے پابندی 23جولائی کی رات بارہ بجے کی تھی جبکہ پرنٹ میڈیا کیلئے بھی پابندی تھی کہ وہ 23جولائی کی اشاعت میں ہی اخبارات شائع کریں گے 24جولائی اور 25جولائی کی اشاعت میں انتخابی امیدواروں کے اشتہارات شائع نہیں کئے جائیں گے۔ مگر فیصل آباد میں مسلم لیگ ن کے سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے این اے 106اور پی پی 113کے الیکشن بارے ‘ ن لیگی مئیر فیصل آبادرزاق ملک کے بھائی نواز ملک نے پی پی 110میں اپنے الیکشن بارے ‘ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر مملکت حاجی محمد اکرم انصاری نے این اے 107میں اپنے الیکشن بارے‘ پی ٹی آئی کے این اے 110سے امیدوار راجہ ریاض احمد ‘ پی ٹی آئی کے این اے 109سے امیدوار فیض اللہ کموکا‘ پی ٹی آئی کے این اے 104سے امیدوار سردار دلدار احمد چیمہ ‘ پی ٹی آئی کے این اے 105سے امیدوار رضا نصراللہ گھمن ‘ پی ٹی آئی کے پی پی 100سے امیدوار چوہدری ظہیرالدین ‘ پی ٹی آئی کے پی پی 99سے امیدوار چوہدری علی اختر خاں‘ پی ٹی آئی کے پی پی 111سے امیدوار شکیل شاہد‘ پی ٹی آئی کے پی پی 112سے امیدوار عدنان انور رحمانی‘ تحریک لبیک پاکستان کے پی پی 111سے امیدوار رانا احسان سکندر خاں ‘ پاکستان نیشنل مسلم لیگ کے رانا ثناء اللہ خاں کے مدمقابل پی پی 113سے امیدوار چوہدری محمد علی کاہلوں نے فیصل آباد کے ایک مقامی اخبار میں 24جولائی کی اشاعت میں بڑے بڑے اشتہارات شائع کروائے ۔ اور یہ اخبار فیصل آباد بھر میں تقسیم ہوا۔ صرف یہی نہیں ان اشتہارات کیساتھ اس اخبار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا جاری کردہ انتباہی نوٹس کااشتہار بھی شائع کیا جس میں امیدواروں اور میڈیا ’’آؤٹ لیٹس‘‘کیلئے ہدائت تھی کی 23جولائی کی رات 12بجے کے بعد کوئی اشتہار شائع نہیں کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے احکامات روندنے اور میڈیا کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی کرنے کی کہانی یہیں پر ہی ختم نہیں ہوئی ۔ شہر میں مؤقر ترین اخبار ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس اخبار نے پولنگ ڈے پر بھی انتخابی اشتہارات لگانے کا سلسلہ جاری ری رکھا۔ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں اور دیگر امیدواروں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے۔ الیکشن کمیشن کی پابندی کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے پولنگ ڈے پر بھی امیدواروں نے اشتہارات شائع کروانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس اخبار کی 25جولائی کی اشاعت میں بھی مسلم لیگ ن کے این اے 106اور پی پی 113سے امیدوار رانا ثناء اللہ خاں‘ پی پی 110سے ن لیگی امیدوار محمد نواز ملک‘ پی پی 113سے پاکستان نیشنل مسلم لیگ کے امیدوار چوہدری محمد علی کاہلوں‘ پی ٹی آئی کے این اے 110سے امیدوار راجہ ریاض احمد ‘ پی ٹی آئی کے این اے 109سے امیدوار فیض اللہ کموکا‘ پی ٹی آئی کے این اے 104سے امیدوار سردار دلدار احمد چیمہ ‘ پی ٹی آئی کے این اے 105سے امیدوار رضا نصراللہ گھمن ‘ پی ٹی آئی کے پی پی 100سے امیدوار چوہدری ظہیرالدین ‘ پی ٹی آئی کے پی پی 99سے امیدوار چوہدری علی اختر خاں‘ پی ٹی آئی کے پی پی 111سے امیدوار شکیل شاہد‘ پی ٹی آئی کے پی پی 112سے امیدوار عدنان انور رحمانی نے اپنا اشتہار شائع کروایا۔ 25جولائی کو پولنگ ڈے ہونے کے باوجود اخبار میں انتخابی اشتہار کی اشاعت کرانیوالے امیدواروں اور مذکورہ اخبار نے الیکشن کمیشن کی پابندی کا علم ہونے کے باوجود اس پر عمل نہ کیا۔ انتخابی جابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا علم ہونے کے باوجود پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے مذکورہ اخبار کیخلاف کوئی ایکشن لینا گوارہ نہ کیا۔ پی آئی ڈی فیصل آبادکے حکام نے اس بارے اخبار کو کوئی نوٹس جاری کیا نہ الیکشن کمیشن کو اس سنگین خلاف ورزی بارے رپورٹ ارسال کی۔

Related posts