ٹیکس چوروں کے بیچ بھاری ٹیکس دینے والے سیاستدان

فیصل آباد(احمد یٰسین) فیصل آباد میں صنعتکاروں‘ بزنس مینوں اور سیاستدانوں کی ٹیکس چوری کی داستانیں تو عام ہیں۔ ٹیکس چوری کے ماحول میں متعدد سیاسی شخصیات کے بھاری ٹیکس ادا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق سیاسی شخصیات میں فیصل آباد میں سب سے زیادہ انکم ٹیکس مسلم لیگ نے کے ختم نبوت کے معاملے پر مستعفی ہونیوالے ایم پی اے رضا نصراللہ گھمن نے ادا کیا۔ انہوں نے سال 2017میں 39لاکھ 8ہزار 539روپے ٹیکس ادا کیا۔ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے شہباز بابر ہیں۔ انہوں نے سال 2017میں 35لاکھ 53ہزار 197روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ این اے 104سے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے والے اسرار شریف ٹیکس دینے والوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے سال 2017میں 30لاکھ 48ہزار 456روپے انکم ٹیکس دیا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے این اے 107سے امیدوار ملک سردار محمد ٹرالے والے بھی بھاری ٹیکس ادا کرنے والوں میں شامل ہیں۔سال 2017میں انہوں نے 21لاکھ 98ہزار 358روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔ تحریک انصاف کے این اے 110سے امیدوار راجہ ریاض احمد بھی بھاری انکم ٹیکس دینے والوں میں سے ہیں ۔ انہوں نے سال 2017میں 18لاکھ 6ہزار 446روپے ٹیکس ادا کیا۔ سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے 12لاکھ20ہزار 530روپے ٹیکس ادا کیا۔ مسلم لیگ ن کے این اے 110سے امیدوار رانا محمد افضل خاں نے چار لاکھ 39ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ سابق ایم این اے میاں عبدالمنان دس لاکھ 49ہزار روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سابق ایم پی اے ملک محمد نواز نے دو لاکھ 84ہزار‘ رانا ثناء اللہ کے داماد احمد شہریار نے ایک لاکھ 88ہزار‘ جہانزیب امتیاز گل نے تین لاکھ‘ یٰسین کسانہ نے 15ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ ختم نبوت کے معاملے پر مستعفی ہونیوالے سابق ایم این اے ڈاکٹر نثار احمد ولد رشید احمد نے ایک لاکھ 16ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔پی ٹی آئی کے رہنما میاں نعیم ساڑھے 6لاکھ روپے ٹیکس ادا کرپائے۔ مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے دو لاکھ 70ہزارروپے ٹیکس دیا۔ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر قاسم فاروق کی آمدن اتنی کم ہے کہ اس پر صرف 21ہزار روپے ٹیکس عائد ہو سکا۔ معظم فاروق95ہزار روپے ٹیکس دیا۔ سابق ایم این اے عاصم نذیر چار لاکھ 86ہزار روپے ‘ سردار دلدار احمد چیمہ نے دو لاکھ 15ہزار روپے‘ مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے عارف گل 90ہزار‘ سابق تحصیل ناظم سمندری مظہر گل تین لاکھ 36ہزار روپے‘ سردار دلنواز چیمہ دو لاکھ 44ہزار‘ رانا فاروق سعید خاں تین لاکھ 33ہزار روپے ‘ سابق ایم این اے شہادت بلوچ صرف آٹھ ہزار روپے انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے این اے 103امیدوار علی گوہر بلوچ نے کبھی ایک پائی کا انکم ٹیکس نہیں دیا۔ سابق ایم پی اے احسن ریاض فتیانہ 42ہزار روپے‘ جعفر علی ہوچہ 47ہزار روپے‘ سابق وزیر مملکت ٹیکسٹائل حاجی اکرم انصاری ایک لاکھ 71ہزار‘ راجہ نادر پرویز کے صاحبزادے اسد نادر 73ہزار روپے‘ پی ٹی آئی رہنما خرم شہزاد کی اہلیہ نازیہ خرم ایک لاکھ 91ہزار روپے‘ سابق ایم پی اے شیخ اعجاز احمد صرف 50ہزار‘ فیض اللہ کموکا89ہزار روپے ‘ ممتاز اقبال کاہلوں 39ہزار روپے‘ سابق وفاقی وزیر داخلہ میاں زاہد سرفراز کے صاحبزادے محمد علی سرفراز چار لاکھ 65ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سابق وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی تین لاکھ 38ہزار روپے ‘ عامر علی 80ہزار‘ اصغر علی قیصر 25ہزار993روپے ‘ فرخ حبیب 46ہزار 993روپے اور شیخ شاہد جاوید 46ہزار 647روپے ‘ سابق ایم پی اے آزاد علی تبسم تین لاکھ 96ہزار ‘ سابق ایم این اے غلام رسول ساہی ایک لاکھ 47ہزار‘ سابق ایم این اے رانا زاہد توصیف تین لاکھ 72ہزار روپے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما سلیم جہانگیر چٹھہ سات ہزار 668روپے ‘ اجمل چیمہ تین لاکھ 25ہزار‘ فواد احمد چیمہ گیارہ ہزار 491روپے ‘ سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی کے پی پی 100سے امیدوار چوہدری ظہیرالدین ایک لاکھ 26ہزار ‘ سابق ناظم مدینہ ٹاؤن اور پی ٹی آئی کے پی پی 99سے امیدوار علی اختر ایک لاکھ 60ہزار روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ عمیر وصی صرف چار ہزار روپے‘ مووآن پاکستان کے چیئرمین صرف 77ہزار 670روپے انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سابق وزیر مملکت داخلہ طلال بدر چوہدری ایک لاکھ 68ہزار روپے ٹیکس ادائیگی کرتے ہیں۔ سابق ایم پی اے رائے حیدر کھرل 15ہزارانکم ٹیکس دیتے ہیں جبکہ سابق ایم این اے اور این اے 102سے پی ٹی آئی کے امیدوار نواب شیر وسیر ایک پائی کا انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

Related posts