پی ٹی آئی رہنماعدنان رحمانی کی کروڑوں آمدن : انکم ٹیکس زیرو


فیصل آباد(احمد یٰسین)پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 112سے امیدوار عدنان انور رحمانی پونے سات کروڑ کی رہائشی اور سات کروڑ کی کمرشل پراپرٹی کے مالک‘ساڑھے چار کروڑ روپے کا بزنس ادارہ‘ سوا دو کروڑ روپے نقد تجوری میں موجود ہونے‘ لاکھوں روپے کا بنک بیلنس ‘ کروڑوں روپے کی سالانہ آمدن‘ یورپ اور ایشیائی ممالک کے دوروں اور شاہانہ لائف سٹائل کے باوجود انکم ٹیکس ایک پائی کا ادا نہیں کرتے۔ ایف بی آر نے عدنان انور کی انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی کا بھانڈا تو بیچ چوراہے پھوڑا مگر الیکشن کمیشن نے کروڑوں روپے کے اثاثوں کے باوجود ٹیکس نہ دینے والے کے کاغذات نامزدگی منظور کر لئے۔ نیوزلائن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 112سے امیدوار عدنان رحمانی کے بارے میں رپورٹ سامنے آئی ہے کہ وہ ایک پائی کا انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ٹیکس معاملات کیلئے عدنان انور کے نام سے وہ فیصل آباد کی بجائے آر ٹی او تھری کراچی میں رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے شناختی کارڈ نمبر 3310061239465پر انہیں این ٹی این نمبر 28955056دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق عدنان انور نے سال 2015میں اپنی آمدن ایک کروڑ 45لاکھ 23ہزار 427روپے ظاہر کی مگر انکم ٹیکس ایک پائی کا ادا نہیں کیا۔ سال 2016میں انہوں نے اپنی آمدن ایک کروڑ 27لاکھ 79ہزار 564روپے ظاہر کی مگر اس سال بھی انہوں نے ایک پائی کا انکم ٹیکس ادا نہیں کیا۔ سال 2017میں ان کی آمدن ناصرف کم ہوئی بلکہ راؤنڈ فگر میں 70لاکھ روپے ہوگئی مگر اس سال بھی انہوں نے ایک پائی کا انکم ٹیکس ادا کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ عدنان انور رحمانی کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق ان کا ایک بزنس ادارہ ’’رز ٹیکس‘‘ کارپوریشن ہے۔ اس ادارے کی مالیت انہوں نے خود ہی چار کروڑ 43لاکھ 77ہزار 954روپے ظاہر کررکھی ہے۔ انہوں نے اپنے نام پر جناح کالونی میں واقع رہائش گاہ کی مالیت چھے کروڑ 75لاکھ روپے ظاہر کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ سات کروڑ روپے سے زائد مالیت کی انکی کمرشل پراپرٹی ہے۔ جی سی یونیورسٹی کے عقب میں جناح کالونی کے کارنر پر واقع کمرشل پلازے’’بی سی ٹاور‘‘کی بیسمنٹ میں ان کی 17دکانیں ہیں جو انہوں نے کرائے پر دے رکھی ہیں۔ اسی پلازے کے گراؤنڈ فلور پر بھی ان کی ملکیتی پانچ دکانیں ہیں اور یہ بھی کرائے پر دے رکھی ہیں۔ اس پلازے کا چوتھا فلور مکمل طور پر ان کی ملکیت ہے۔ ماہانہ لاکھوں روپے اس پلازے سے انہیں کرایہ ملتا ہے۔

عدنان انور رحمانی کی اپنی ظاہر کردہ معلومات کے مطابق ان کے فیصل بنک سرگودھا روڈ کے اکاؤنٹ میں پچاس ہزار روپے موجود ہیں۔ میزان بنک سرسید روڈ کے اکاؤنٹ میں دو ہزار روپے اور میزان بنک سرسید روڈ کے ہی ایک دوسرے اکاؤنٹ میں 26لاکھ 34ہزار 366روپے موجود ہیں۔ ان کی بنکوں میں موجود رقم تو کم ہے مگر ان کی تجوری میں نقد رقم تینوں بنک اکاؤنٹ کی رقم سے پانچ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی تجوری میں نقد دو کروڑ 21لاکھ 88ہزار 977روپے موجود ہیں۔ عدنان انور رحمانی یورپ اور ایشیائی ممالک کے دورے بھی کرچکے ہیں۔ حیران کن طور پر یورپ کے دس دن کے دورے پرائیر ٹکٹ اور وہاں قیام و طعام اور دیگر اخراجات پر ان کا صرف پونے دو لاکھ روپے خرچ آیا جبکہ چائینہ کے دس دن دورے پر ائیر ٹکٹ اور قیام و طعام سمیت تمام اخراجات ڈیڑھ لاکھ میں ہوگئے۔شاہانہ لائف سٹائل اور کروڑوں روپے کی آمدن کے باوجود وہ انکم ٹیکس ایک پائی کا ادا نہیں کرتے۔

اپنے کاغذات نامزدگی میں عدنان انور رحمانی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں انکم ٹیکس معاف ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیوزلائن کے رابطہ کرنے پر عدنان انور رحمانی کا کہنا تھا کہ وہ امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے ہیں ۔ اور ایڈوانس ٹیکس ادا کردیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس سمیت کوئی بھی ٹیکس اگر ادا کیا گیا ہے تو این ٹی این نمبر دینے پر ہر طرح کے ٹیکس کی ادائیگی سامنے آجاتی ہے۔ عدنان انور کے کیس میں ایف بی آرکی رپورٹ اگر ظاہر کررہی ہے کہ وہ ایک پائی کا انکم ٹیکس ادا نہیں کر رہے تو دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ ایسے میں جبکہ ان کا سالانہ لاکھوں روپے کا کمرشل پراپرٹی سے کرایہ بھی آمدن میں شامل ہے تو ان کی انکم ٹیکس ادائیگی ظاہر ہونی چاہئے۔ ایف بی آر رپورٹ کے حوالے سے مزید معلومات کیلئے ریجنل ٹیکس آفس فیصل آباد کے ایڈیشنل کمشنر ہیڈ کوارٹر آصف لطیف سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی رپورٹ ایف بی آر ہیڈ آفس سے جاری ہوئی ہے۔ ویسے بھی مذکورہ شخصیت آر ٹی او کراچی میں رجسٹرڈ ہیںیہ فیصل آباد آر ٹی او کا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔

Related posts