پی پی 114: ن لیگ کی جیت میں توصیف نواز کی رکاوٹ حائل


فیصل آباد(احمد یٰسین) ن لیگی رہنما توصیف نواز خان نے آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں آ کر پی پی 114 مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر شیخ اعجاز احمد کی پوزیشن انتہائی کمزور کردی ہے۔ امپورٹڈ امیدوار کا ٹیگ بھی شیخ اعجاز کیلئے حالات کو مشکل بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے حلقہ پی پی 114میں انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر شیخ اعجاز احمد کو خود ن لیگی دھڑے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ پی پی 114قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 108اور این اے 109کے نیچے آتا ہے۔ شیخ اعجاز کو این اے 108کے ن لیگی امیدوار عابد شیر علی قبول کررہے ہیں نہ این اے 109کے ن لیگی ٹکٹ ہولڈر میاں عبدالمنان ہی ان کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں شیخ اعجاز کو ایم پی اے منتخب کروانے میں توصیف نواز خان کا کردار مرکزی تھامگر اس دفعہ ن لیگ کی ٹکٹوں کی تقسیم کو میرٹ پر تسلیم نہ کرتے ہوئے پرانے مسلم لیگی ہونے کے باوجود توصیف نواز خان کو ٹکٹ نہیں مل سکا اور وہ آزاد حیثیت میں الیکشن میں کود چکے ہیں۔ اس حلقے میں سابق مئیر چوہدری شیر علی کھلم کھلا جبکہ میاں عبدالمنان غیراعلانیہ طور پر ن لیگ کے رہنما اور آزاد امیدوار توصیف نواز خان کی حمائت کررہے ہیں۔توصیف نواز کے علاوہ بھی گزشتہ الیکشن میں شیخ اعجاز کو جن دھڑوں کا ساتھ میسر تھا وہ تقسیم ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد توصیف نواز خان کیساتھ کھڑی ہے۔تحریک انصاف نے اس حلقے میں لطیف نذر کو ٹکٹ دیا ہے۔ لطیف نذر تحریک انصاف کے پرانے اور نظریاتی کارکن ہیں اور فیصل آباد میں چند ایک میرٹ پر دی جانی والی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ گجر ہونے کی وجہ سے گجر برادری کا ایک طاقتور دھڑا بھی ان کی سپورٹ کررہا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے تمام دھڑوں کی متفقہ طور پر انہیں حمائت حاصل ہے۔ جو ان کی پوزیشن کو انتہائی مستحکم کررہا ہے ۔پیپلزپارٹی نے اس حلقے میں گجر برادری کے ووٹوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ٹکٹ شکور گجر کو دیا ہے۔ شکور گجر کو پی پی پی کے نظریاتی ووٹوں کیساتھ گجر برادری کے بھی ایک دھڑے کی حمائت حاصل ہے تاہم ان کی پوزیشن اتنی مضبوط نظر نہیں آرہی۔ ن لیگی ووٹر گومگوں کا شکار ہے ۔ شیخ اعجاز کی پانچ سالہ ’’کارگزاری ‘‘خود ان کے سامنے آرہی ہے ۔ امپورٹڈ امیدوار ہونے کا ٹھپہ بھی شیخ اعجاز کیلئے مشکلات کھڑی کررہا ہے۔ چوہدری شیر علی اور میاں عبدلمنان کی حمائت کے باعث توصیف نواز خان کی پوزیشن تو بہتر ہے مگر انہیں ن لیگ کے نظریاتی ووٹر کو یقین بہانی کروانی پڑے گی کہ وہ ن لیگ کے ہی ہیں صرف حالات کی ستم ظریفی کے باعث آزاد میدان میں کودے ہیں۔توصیف نواز خان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر شیخ اعجاز کی لٹیا ڈبونے کی بڑی وجہ بنیں گے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے راجہ سلیم عابد اور تحریک اللہ اکبر کے ریاست علی بھی شیخ اعجاز کے ووٹ بنک میں نقب لگا رہے ہیں۔ کامیابی کا ہما کس کے سر بیٹھے گا اس کا فیصلہ تو 25جولائی کو ہی ہونا ہے مگر حالات پی پی پی اور ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرز کے حق میں زیادہ اچھے دکھائی نہیں دے رہے۔

Related posts