دولت مگر خوشی کا قحط

جنرل راحیل شریف کی موجودگی ان کیلئے سوہان ِروح تھی ،اُن کے قدکاٹھ اور عوامی مقبولیت کے سامنے یہ پستہ قامت اور غیر موثر دکھائی دیتے تھے ۔ لہذا اقتدار کا دسترخوان کانٹوں کی سیج بن چکا تھا ۔ تیسری مدت کی وزارت ِ عظمیٰ کے مشروب میں تلخی گھل چکی تھی ۔ اب جنرل صاحب کی روانگی پر خوشی کے شادیانے نہیں تو بھی چہرے پر طمانیت کی طرب انگیزی نمایاں ہوتی، فتح کادلپذیر احساس جاگزیں ہوتا ، اقتدار کی تمکنت لہجے سے کھنکتی، صبر کا میٹھا پھل حلاوت…

Read More