جی سی یونیورسٹی پر ایڈہاک ازم کا راج، اہم عہدوں پر عارضی تعیناتیاں

فیصل آباد (ندیم جاوید) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں معاملات ایڈہاک ازم سے چلائے جانے کی صورتحال سامنے آئی ہے۔ جامعہ کے آٹھ میں سے صرف دو ڈین مستقل ہیں جبکہ رجسٹرار اور کنٹرولر جیسی اہم پوسٹوں پر بھی عارضی تعیناتیاں کرکے وقت گزاری کی جارہی ہے۔ اعلان کے باوجود وائس چانسلر نے سالہا سال سے تعینات ڈیپارٹمنٹس کے چیئرمین اس لئے نہیں بدلے کے ان پر سر پر تبدیلی کی تلوار لٹکا کر اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جا سکے۔ نیوز لائن کے مطابق جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں ”ڈنگ ٹپاؤ“پالیسی کے تحت اہم عہدوں پر بھی عارضی تعیناتیاں کرکے وقت گزاری کی جارہی ہے۔ یونیورسٹی کی آٹھ فیکلٹی میں سے صرف دو فیکلٹی کے ڈین مستقل تعینات ہیں جبکہ باقی 6ڈین عارضی انتظام کے تحت لگائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جی سی یو ایف کے ڈین آرٹس اینڈ سوشل سائنسز ڈاکٹر عاصم محمود اور ڈین مینجمنٹ سائنسز ڈاکٹر صوفیہ انور کی تعیناتی گورنر پنجاب نے کی ہے جبکہ باقی 6ڈین کی سالہا سال سے خالی نشستوں پر گورنر نے ڈین کی تعیناتی ہی نہیں کی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال نے عارضی انتظام کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر امین کو انچارج ڈین فزیکل سائنسز، ڈاکٹر شازیہ بخاری کو انچارج ڈین فارما سائنسز، ڈاکٹر کلیم کھوسہ کو انچارج ڈین انجینئرنگ، ڈاکٹر عابد رشید کو انچارج ڈین میڈیکل سائنسز،ڈاکٹر فرحت جبیں انچارج ڈین لائف سائنسز اور ڈاکٹر آصف اعوان انچارج ڈین اوریئنٹل اینڈ اسلامک لرننگ تعیناتکررکھا ہے۔ یونیورسٹی کے دوسب سے اہم عہدوں رجسٹرار اور کنٹرولر پر بھی مستقل تعیناتی کرنے کی بجائے عارضی انتظام کرتے ہوئے ڈاکٹر نعیم اقبال کو رجسٹرار اور ڈاکٹر مظہر حیات کو کنٹرولر امتحانات کا عارضی چارج دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد کمال نے مختلف ڈیپارٹمنٹس کے چار سے پانچ سال سے تعینات چیئرمین اور متعدد ڈائریکٹوریٹس کے انچارج صرف اس لئے نہیں تبدیل کئے کہ ان کے سر پر تبدیلی کی تلوار لٹکتی رہے اور فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے رہیں۔ جبکہ بطور وائس چانسلر اپنی تعیناتی کے فوری بعد ڈاکٹر شاہد کمال نے جی سی یونیورسٹی میں تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے تین سال سے زائد عرصہ تعینات رہنے والے تمام چیئرمین اور ڈائریکٹر بدلنے کا اعلان کیا تھا مگر چند ایک کے علاوہ وہ کسی کو بھی نہ ہٹا سکے۔

Related posts